کراچی (نمائندہ جسارت)انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سینٹرل جیل سے 2 خطرناک قیدیوں کے فرار کے مقدمے میں اسسٹنٹ جیل غلام مرتضیٰ سمیت 14پولیس افسران و اہلکاروں کو 6 سال قید و جرمانے کی سزا سنا دی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کی مختلف دفعات میں دی جانے والی سزا کو صرف 2 سال ہی تصور کیا جائے گا‘ مجرموں کا جیل میں گزارا ہوا وقت سزا میں شامل ہوگا۔ کراچی سینٹرل جیل کے انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت نمبر 19 نے13جون 2017ء میں سینٹرل جیل سے خطرناک دہشت گردوں شیخ ممتاز عرف فرعون اور احمد خان عرف منا کے فرار سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل غلام مرتضیٰ، عبدالرحمن شیخ سمیت 14 افسران و اہلکاروں کو6،6 سال قید و جرمانے کی سزا سنا دی۔ جبکہ ایک ملزم کو بری کردیا۔ اس مقدمے میں 5 ملزمان ضمانت پر تھے جنہیں سزا سناتے ہی کمرۂ عدالت سے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ عدالت سے گرفتار ہونے والوں میں غلام مرتضیٰ، عبد الرحمن شیخ، شفیق، رفیق چنا اور فہیم انور شامل تھے۔ سعید احمد، یاسر، عطا محمد، نادر سمیت دیگر ملزمان پہلے ہی جیل میں ہیں۔ پولیس کے مطابق 13جون2017ء کو سینٹرل جیل میں قائم جوڈیشل کمپلیکس سے شیخ ممتاز عرف فرعون اور احمد خان عرف منا فرار ہوگئے تھے۔ فرار ہونے والے ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم تھا۔
پولیس اہلکاروں کو سزا