logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo
star Bookmark: Tag Tag Tag Tag Tag
Pakistan

غلطی ہائے مضامین مت پوچھ

انسان خطا کا پتلا ہے، ٹھوکر کھاتا ہے تو پچتاتا ہے اور ٹھوکر کھانے کے بعد انسان کا پچتانا یا پشیمان ہونا مزید غلطیوں کے احتمال کو کم کرتا ہے۔کچھ پچتاوے ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے اور گئے وقت کی طرح کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ ایسی ٹھوکر کھا کر یا غلطی کا ارتکاب کرکے ہاتھ ملتے رہ جانے والے کو وقت پکار پکار کر کہتا رہتا ہے کہ ''اب پچتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت'' اسلئے چڑیوں کے کھیت کے چگ جانے سے پہلے ایک ہی ٹھوکر سے انسان کو سبق سیکھ جانا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ ایسی غلطی کا دوبارہ سرزد ہونا ممکن نہ ہو، بھول چوک کے حوالہ سے پرانے اور سیانے یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ ''صبح کا بھولا اگر شام کر گھر واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہنا چاہئے'' یعنی اس کی غلطی کو نظرانداز کر دینا چاہئے۔

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں

وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے

کے مصداق کسی بھی میدان کا کوئی بھی شہسوار گر گر کر ہی شہسواری کے گر جانتا ہے۔ اگر کسی شہسوار کے گرنے کو اس کی کسی غلطی کا خمیازہ کہیں تو اس کے گر گر کر اُٹھنے اور شہسواری کے تسلسل کو جاری رکھنے کے عمل کو ہم سرزد ہونے والی غلطیوں سے کچھ سیکھنے کے عمل سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ اماں حوا جب شیطان کے بہکاوے میں آکر حضرت آدم سے شجرممنوعہ کا پھل کھانے کی فرمائش کر بیٹھیں تو بابا آدم نے اپنی شریکہ حیات کی فرمائش پوری کرنے کی غرض سے جو غلطی یا خداوند ذوالجلال والاکرام کی حکم عدولی کی اس کی سزا نہ صرف ان کو بلکہ پوری آدمیت کو بھگتنی پڑی۔ بابا جی راندہ درگاہ ہوگئے ان کو جنت نکالا مل گیا، وہ ثریا سے زمین پر آن ٹپکے، لیکن رحمت خداوندی نے انہیں مہلت دیکر نیک اعمال کرنے کی تاکید کی تاکہ ان کے بدلے میں وہ دوبارہ جنت میں جاسکیں۔ نیک اعمال جن میں حقوق اللہ اور حقوق العباد شامل ہیں جن کی تعلیم دینے کیلئے اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں میں سے ان لوگوں کا انتخاب کیا جن کو پیغمبر کے لقب سے یاد کیا گیا۔ حضرت آدم اللہ تعالیٰ کے پہلے پیغمبر تھے۔ ایسے پیغمبر جن کے صدقے حضرت انسان کو مسجود الملائک ہونے کا شرف حاصل ہوا لیکن شجرممنوعہ کا پھل کھانے کی پاداش میں وہ سزا کا مستحق بھی ٹھہرائے گئے، انہیں جنت بدر کرکے کرۂ ارض پر بھیج دیا گیا تاکہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوجائے، ان کو اپنے کئے پر پشیمانی ہو اور وہ گڑگڑا کر نہ صرف رب ذوالجلال ولاکرام کی عبادت کرکے اس سے معافی مانگیں بلکہ حقوق اللہ کے علاوہ بندگان خدا کیساتھ بھلائی کرکے حقوق العباد بھی ادا کرتے رہیں۔ ہمارے ابو حضرت آدم اور اماں حوا کے اس دنیا پر آنے کے بعد نسل آدم بڑھنے لگی۔ اولاد در اولاد کے تسلسل نے ان کو گروہ درگروہ خانوادوں، قوموں اور قبیلوں میں بانٹ دیا۔ غلطی یا خطا کرنے کی جبلت تو اس کی گھٹی میں پڑی تھی سو وہ غلطیاں اور خطائیں کرتا رہا۔ بھائی بھائیوں کے حقوق صلب کرنے لگے، ہابیل وقابیل برسرپیکار رہنے لگے۔ زن، زر اور زمین کے جھگڑے سر اُٹھانے لگے، لوگ حقوق العباد تو چھوڑیں حقوق اللہ تک کی ادائیگی سے غافل ہوگئے، ظلم وزیادتیاں بڑھنے لگیں، قبائل اور قومیں لڑنے لگیں۔ ایسے میں رب کریم کو زمین والوں کی ان حرکتوں پر رحم آیا اور ان کو غلطیوں اور خطاؤں سے بچانے اور سیدھی راہ پر چلانے کیلئے اپنے برگزیدہ بندوں میں سے پیغمبر بھیجنے شروع کئے۔ بعض اوقات غلط کار وخطاکار وخودسر انسان پیغمبروں کیخلاف اُٹھ کھڑے ہوئے، سیدھی راہ پر آنے کی بجائے ان کا ٹھٹہ اور مذاق اُڑانے اور ان کو تکلیف اور اذیت پہنچانے لگے اور پھر یوں ہوا کہ ان کی یہ غلط کاریاں ان کے گلے پڑگئیں اور ان پر ایسے ایسے عذاب نازل ہوئے کہ وہ رہتی دنیا تک نشان عبرت بن گئے۔ ہم بحیثیت مسلمان پانچ وقت اللہ کی بارگاہ میں حاضری دیکر اسے جتاتے رہتے ہیں کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ اے اللہ ہمیں اس سیدھی راہ پر چلا جو تیرے بندوں کو انعام ہوئی اور اس راستے سے بچا جو غضب کا باعث بنتا ہے۔ یقینا اللہ تعالی کے قہر وغضب کا باعث بننے والا وہی راستہ ہے جس پر چلنے والے غلطیاں درغلطیاں کرکے اس کی بے آواز لاٹھی کی گرفت میں آجاتے ہیں۔ عہد حاضر میں ایسی بہت سی مثالیں ہمارے آپ کے سامنے نشان عبرت بن کر موجود ہیں، کل کے حکمران اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جیلوں کی ہوا کھا رہے ہیں، ان کو اپنی جان ومال، عزت وآبرو اور صحت کے لالے پڑے ہوئے ہیں، یقینا ان کی اس حالت زار پر ترس آنے لگتا ہے لیکن وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے دھونس دھمکیوں اور دھرنے بازیوں کی سیاست پر اُتر آئے ہیں، یہ سب اصل بات کو چھپانے کیلئے ہورہا ہے جبکہ

جو اصل بات ہے اس کو چھپانے کی خاطر

بھی کبھی غلطی مان جایا کرتے ہیں

غلطی کا سرزد ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن غلطی کو تسلیم نہ کرنے سے بڑی کوئی غلطی نہیں ہوتی، غلطیاں سب سے ہوا کرتی ہیں، مجھ سے بھی ہوسکتی ہیں، آپ سے بھی اور ان سے بھی جو غلطیوں کی نشان دہی کرتے وقت اپنے آپ کو اسد اللہ خان غالب سمجھ کر کہنے لگتے ہیں،

غلطی ہائے مضامین مت پوچھ

لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں

Themes
ICO