logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo
star Bookmark: Tag Tag Tag Tag Tag
Pakistan

میں نے یہ کب کہا پس دیوار آپ تھے

مشہور مقولہ ہے کہ انگار جانے، لوہار جانے، اسلئے ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام کی ذیلی رجسٹرڈ تنظیم انصارالاسلام کو کالعدم قرار دیدیا ہے اور صوبوں کو اس حوالے سے خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیدیا ہے جبکہ جمعیت نے اس حوالے سے خبریں سامنے آنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ انصارالاسلام ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے جس کا کام جمعیت کے اجتماعات کے موقع پر امن وامان قائم کر کے انتظامیہ کیساتھ تعاون کرنا ہوتا ہے اور حکومت کی جانب سے اس پر پابندی عاید کرنے کے اقدام کو عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا تو اب ممکن ہے کہ ان سطور کے شائع ہونے تک اس حکومتی فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کر بھی دیا گیا ہو، تاہم اس موقع پر دیگر جماعتوں کے اسی قسم کی ذیلی تنظیموں کے حوالے سے کچھ یادداشتوں کی جانب توجہ دلانا ضروری ہو جاتا ہے کہ بقول شاعر

وہ مری سوچ سے خائف ہے تو اس سے کہنا

مجھ میں اُڑتے ہوئے طائر کو تہہ دام کرے

آل انڈیا مسلم لیگ اس ملک پاکستان کی خالق جماعت تھی اس کی ذیلی تنظیم مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے نام سے قائم تھی جس کے ارکان سبزرنگ کی وردی اور سبزرنگ ہی کی فوجی طرز کی ٹوپی پہن کر اپنے جلسوں اور کارنر میٹنگز وغیرہ میں نظم وضبط قائم رکھتے تھے، یہ تنظیم ظاہر ہے انگریزوں کے دور ہی میں قائم کی گئی تھی اور انگریز حکمرانوں نے اس کی سرگرمیوں کو کبھی پابندیوں کی زد پر نہیں رکھا تھا۔ یہ تنظیم قیام پاکستان کے بعد بھی قائم رہی اور فوجی تنظیموں کی طرز پر اس کے عہدے تقسیم ہوتے تھے۔ پشاور میں ایک انتہائی پرجوش کارکن سالار عبدالغنی مرحوم بہت مشہور تھے اور تحریک پاکستان میں ان کا کردار بہت نمایاں رہا، بعد میں وہ لیگ تقسیم ہونے اور کونسل لیگ کیساتھ کنونشن لیگ بن جانے کی وجہ سے بہت فکرمند تھے تاہم عبدالقیوم خان نے قیوم لیگ بنائی تو غالباً اس میں شامل ہوگئے تھے۔ اسی طرح آل انڈیا کانگریس میں خدائی خدمتگار تنظیم کے ضم ہونے سے پہلے سرخپوشوں کی ایک ذیلی تنظیم پختون زلمے ہوا کرتی تھی اور جب یہ کانگریس میں ضم ہوئی تو انہوں نے یعنی پختون زلمے تنظیم نے سرخ لباس اور سرخ ٹوپی یا پگڑی کو اپنی شناخت بناکر جلسوں میں نظم وضبط قائم کرنے کی ذمہ داریاں سنبھالیں، اے این پی کے جلسوں میں اب بھی اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بعض پرجوش کارکن سرخ جوڑوں میں نظر آتے ہیں، یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ مسلم لیگ نیشنل گارڈز کے پاس مصنوعی بندوقیں ہوتی تھیں جن کیساتھ وہ پریڈ کرتے نظر آتے، یہ مصنوعی بندوقیں سکولوں میں طلبہ کو بھی پریڈ سکھاتے ہوئے تھمائی جاتی تھیں، جبکہ دیگر تنظیمیں ڈنڈوں سے لیس ہوتیں تاکہ نظم وضبط برقرار رکھنے میں ان سے مدد لی جاسکے، البتہ علامہ مشرقی نے اپنی تنظیم خاکسار تحریک کا آغاز کیا تو انہوں نے پوری تنظیم کو نیم فوجی انداز میں افواج کی طرز پر خاکی وردی پہننے اور کندھے پر بیلچہ رکھ کر باقاعدہ پریڈ کرنے کو وتیرہ بنایا، یہ انداز انہوں نے بیرون ملک حصول تعلیم کے دوران انگریزوں سے وطن کی آزادی کیلئے جرمنی کے چانسلر ہٹلر کی طرزسیاست سے متاثر ہوکر اختیار کیا تھا، شنید ہے کہ انہوں نے نازی جرمنی کے ہٹلر اور دیگر رہنماؤں کیساتھ ملاقات بھی کی تھی، متحدہ ہندوستان کے دور میں غالباً علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک واحد ایسی تنظیم تھی جو اپنے تمام کارکنوں کو فوجی انداز میں ڈھالنے کی تگ ودوکرتے رہے مگر انگریز سرکار نے ان کی نیم مسلح تنظیم پر کوئی پابندی نہیں لگائی کیونکہ ان کی سرگرمیاں بھی قانون کے دائرے کے اندر ہی رہتی تھیں۔ پاکستان کی ایک اور اہم جماعت ہے جس کے کارکن ہر سال 31دسمبر کی رات نئے سال کی آمد پر مختلف شہروں میں تقاریب برپا کرنے والوں پر ڈنڈوں سوٹوں سے لیس ہو کر حملہ آور ہونے کے حوالے سے بہت مشہور ہیں مگر مزے کی بات یہ ہے کہ ان سے ماضی میں کوئی تعرض نہیں رکھا گیا یہاں تک کہ ایک بار اس جماعت کے کارکنوں نے اپنے ایم این اے کی قیادت میں پشاور میں بل بورڈز کیخلاف بھی کریک ڈاؤن کیا اور جن بل بورڈز پر خواتین کی تصاویر تھیں ان کو تہس نہس کرکے رکھ دیا تھا، تاہم چونکہ صوبے میں قائم حکومت میں متعلقہ سیاسی جماعت بھی شریک تھی اسلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جرأت ہی نہیں ہوسکی تھی کہ قانون کو قوت نافظہ کے ذریعے بروئے کار لانے کی بجائے اسے ہاتھ میں لینے کے ''جرم'' میں کسی کیخلاف بھی ایکشن لیتے۔ اب ذرا موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، جمعیت علمائے اسلام کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام کے کارکنوں کی پریڈ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک طوفان بلاخیز اُمڈ آیا ہے، اگرچہ جمعیت کے رہنماؤں نے ان سرگرمیوں کو ممکنہ آزادی مارچ اور اس حوالے سے مختلف شہروں سے روانہ ہونے والے جلوسوں اور ممکنہ دھرنے (اگر ہوا تو) کے موقع پر نظم وضبط برقرار رکھنے کا حصہ قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ کوئی گملا تک نہیں ٹوٹے گا، کوئی پتا تک نہیں گرے گا، مگر اس کے باوجود تازہ خبروں کے مطابق تنظیم پر پابندی لگا دی گئی ہے اس کے جواب میں2014 کے دھرنے کے موقع پر متعلقہ جماعتوں کے کارکنوں کے ڈنڈے لہرانے والی ویڈیوز بھی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر کچھ سوال چھوڑ رہی ہیں مگر اس کے باوجود ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ انگار جانے لوہار جانے، اور بقول شجاعت علی راہی

میں نے یہ کب کہا پس دیوار آپ تھے

میں نے تو یہ کہا پس دیوار کون تھا؟

Themes
ICO