logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo
star Bookmark: Tag Tag Tag Tag Tag
Pakistan

پہلے سنایا اب سنو

بہت ساری خبریں اخبارات کے صفحات پر اور اسی طرح ٹیلی ویژن کی سکرین پر نظر نہیںآتی ہیں، اللہ جانے کیا بات ہے، کہا جا رہا ہے کہ پابندی لگانے والے اداروں کی جانب سے ان پر پابندی لگا دی جاتی ہے، خان عبدالولی خان جیسے عظیم سیاسی رہنما کا قول ہے کہ جب معتدل قیادت کو دیوار سے لگا دیا جائے تو انتہاپسند قیادت سیاسی خلاء کو پُر کرتی ہے، موصوف کا یہ قول ہمیشہ درست ثابت ہوا ہے۔ ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، یحییٰ خان، پرویز مشرف وغیرہ جیسے آمر مطلق اس قدغن کے بے دریغ استعمال کے باوجود اپنا اقتدار نہ بچاسکے، جھوٹ کی بھی ایک حد ہوتی ہے جب جھوٹ حد پار کر جائے تو پھر ملک میں انارکی پیدا ہوتی ہے۔ یہ بھی مشاہدے میں ہے کہ سچائی کو روکنے سے ایسا جھوٹ کا طوفان پھیلتا ہے کہ سچائی چھپانے والوں کو بہا لے جاتا ہے، گزشتہ دنوں عاصمہ جہانگیر جو انسانی حقوق کی محض علمبردار ہی نہیں تھیں بلکہ انہوں نے اس کی جدوجہد میں اپنی زندگی تج کر دی، ان کی خدمات کے اعتراف میں گزشتہ دنوں ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں معروف دانشوروں نے شرکت کی، لاہور میں منعقدہ اس کانفرنس میں ملک میں اظہار رائے کی آزادی، پارلیمانی بالادستی اور منصفانہ احتساب کے عمل میں رکاوٹوں کے پس منظر میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تنقید کی گئی، اسی طرح کچھ دن پہلے سینیٹ کی میڈیا سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں میڈیا کو سنسرشپ سے متعلق ہدایات جاری کرنے کے بارے میں استفسار کیا گیا کہ ایسی ہدایات کون جاری کرتا ہے تو وہاں موجود ایک ادارے کا نام سامنے آیا لیکن انہوں نے جھکی نظروں سے تردید کی کہ وہ سنسر کیلئے کوئی حکم یا ہدایات جاری نہیں کرتے مگر جب ان سے دوبارہ استفسار کیا کہ وہ سوچیں کہ واقعی وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کی نظریں اور زیادہ جھک گئیں، عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بیس مختلف نشستوں میں ایک سو سے زیادہ مقررین نے خطاب کیا، اس کے مختلف اجلاسوں میں آزادی صحافت، قانون کی بالادستی، جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کے بحران، خواتین اور اقلیتوں کو درپیش مسائل، غیرمنصفانہ احتساب، قومی سلامتی کے درست تصور، سوشل میڈیا کی صورتحال اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کی بہتری کے امور سمیت کئی موضاعت پر تفصیل سے بات کی گئی، اس کانفرنس میں دنیا کے مختلف حصوں سے صاحب الرائے افراد نے شرکت کی، تاہم صحافیوں کے تحفظ کی ایک بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈی نیٹر سٹیون بٹلر کو اسٹاپ لسٹ کا حوالہ دیکر لاہور ایئرپورٹ سے پاکستان سے واپس بھیج دیا گیا، کہا جاتا ہے کہ اس شخص نے کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک بیان میں پاکستان میں آزادی صحافت کیلئے حالات مزید ناموافق قرار دیئے تھے، جس وقت اسٹیون بٹلر کو لاہور ایئرپورٹ سے ہی واپس کیا گیا اس وقت یہ خبر سوشل میڈیا کے ذریعے جہاں عام ہوگئی اور اس بارے میں طرح طرح کے تبصرے بھی ساتھ ہی شروع ہوگئے چنانچہ حکومت کی سوشل میڈیا پر کوئی روک نہیں ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کا کوئی معیار ہے چنانچہ ہر خبر ہر طرح کے زوائیے سے اُڑا دی جا رہی ہے۔ اگر اسٹیون بٹلر کانفرنس میں شریک ہو جاتے تو کوئی ہاہاکار نہ مچتی ماسوائے اس کے کہ کانفرنس کے چند سو شرکاء ان کے خیال سے آگاہی پاتے مگر غیردانش مندانہ طرز نے اسٹیون سمیت نہ جانے کس کس کو ہزرہ خوائی کی زبان عطا کردی۔ ایسے ہی حالات میں عوام یہ بھی نہیں جان پائے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کیا کرنے والے ہیں اور کیا کر رہے ہیں یا کیا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جھکی نظر والوں کی قدر کے تحت مولانا کی پریس کانفرنس برقی ذرائع ابلاغ پر براہ راست نظارہ نہیں ہوتی، اخبارات میں بھی کونے کھدروں میں پڑی نظر آتی ہے، اس سے کیا فضا قائم ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا پر اس بارے میں مولانا کے حامیوں اور مخالفین کے مابین ایک اونچے درجے کی مسابقت نظر آرہی ہے جس کا فائدہ دونوں میں سے کسی کو حاصل نہیں ہو پارہا ہے البتہ پاکستان کی غیردوست قوتوں کیلئے باعث تقویت بنتی جارہی ہیں، حکو مت کا مولانا دھر نے سے متعلق ایک فیصلہ بہت ہی مثبت سامنے آیا جس سے اندازہ ہوا کہ خان صاحب کو اب احساس ہوگیا ہے کہ وہ دھرنا تحریک کے لیڈر نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے حقیقی وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے مولانا دھرنا کے مطالبات جاننے اور ان کا حل تلاش کرنے کیلئے جمہوریت کے سنہری اصولوں اور اپنے وزیراعظم ہونے کے احساس کے ناتے بات چیت کو ذریعہ بنانے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیردفاع پرویزخٹک کی سربراہی میں ایک مذاکراتی ٹیم کی طرف قدم بھی بڑھایا لیکن اس کیساتھ انہوں نے تابڑ توڑ سیاسی لفاظی کا حملہ بھی مولانا پر کر دیا۔خان صاحب نے یہ تو احساس کرلیا کہ وہ وزیراعظم کی حیثیت سے اپنا فرض نبھائیں لیکن ان کو یہ گمان نہ آیا کہ اس عہدہ جلیلہ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جو پیشکش وہ کریں اس پیشکش کیلئے فضا قائم کرنا اور اس کو برقرار رکھنے کی بھی ذمہ داری حکومت ہی کی ہوتی ہے چنانچہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے اس فضا کو مکدر دیکھ کر مذاکرات سے انکار کر دیا، معاملہ رہبر کمیٹی کے حوالے کر دیا جو فیصلہ وہ کرے شاید اسی پر عمل ہو، بہرحال عوام کو ہنوز یاد ہے کہ ایک سو چھبیس دنوں والے دھرنے میں میڈیا کیلئے کوئی قدغن نہیں تھی، لوگ اذان مغرب کے وقت بھی دھرنے کی سوشل سرگرمیاں دھرنا میدان سے براہ راست دیکھتے تھے اور اس دھوم دھڑکے سے لطف اندوز بھی رہتے تھے، اب فکرمند ہیں کہ اگر جی ٹی روڈ پر کنٹینر لگ گئے یا موٹروے کو بھی ایسے ہی کنٹینروں سے ڈھا نپ دیا گیا تو عوام بیچارے کیسے سفر کریں، ان کو تو انگریزی کے سفرsufer سے دوچار ہو جانا پڑیگا، جہاں تک براہ راست نشریات نہ ہونے کا معاملہ ہے تو اس کی عوام کو پرواہ نہیں ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مولانا صاحب کے دھرنے میں وہ سوشل شو تو ہونے سے رہا جو پچھلے دھرنا کا خاصا تھا وہاں تو اذانوں کا ہی آوازہ ہوگا جو ان کو اپنے قریہ وامصار سے میسر ہیں۔

Themes
ICO