logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo logo
star Bookmark: Tag Tag Tag Tag Tag
Pakistan

ٹرانسپورٹروں کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے

فغان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کی پریس کانفرنس میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے راستے میں چیک پوسٹوں پر تعینات عملے پر ٹرانسپورٹرزنے بھتہ وصولی اور اس عمل میں ارکان صوبائی اسمبلی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے جبکہ صوبائی معدنیات کی محصول چونگی ٹیکس کی رقم دوسو روپے کی بجائے ایک ہزار روپے وصول کی جارہی ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ طورخم بارڈر کو چوبیس گھنٹے کھلنے سے روزانہ ہزار سے زائد گاڑیاں بارڈر کراس کر رہی ہیں لیکن پشاور اور قبائلی اضلاع کی انتظامیہ اس اہم اقدام کو سبوتاژ کر رہی ہے۔ ایک اور پریس کانفرنس کے دوران پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ٹرک اونر ایسوسی ایشن نے پشاور میں قائم مختلف چیک پوسٹوں پر بھتہ مافیا اور ٹی ایم اے ٹاؤن فور میں ٹھیکیداروں کی جانب سے غنڈہ ٹیکس لینے اور غیرقانونی جرمانوں کو ختم کرنے کیلئے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ان چیک پوسٹوں کا باقاعدہ نام لیکر نشاندہی بھی کی ہے۔ایک ہی دن ٹرانسپورٹروں کی دو مختلف تنظیموں کی جانب سے یکساں قسم کے الزامات پر مبنی پریس کانفرنس فوری نوٹس لینے کے حامل معاملات ہیں، صوبے کی ٹرانسپورٹ برادری کی طرف سے قبل ازیں بھی پاک افغان تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، ایسا لگتا ہے کہ ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی اور انہوں نے مجبوراً ایک مرتبہ پھر اپنے الزامات کو دہرایا ہے۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ بدعنوانی ورشوت سے پاک ہونے کی دعویدار حکومت کی طرف سے رنگ روڈ سے طورخم سرحد تک بھتے کی وصولی کی روک تھام کیلئے اقدامات سے معذور کیوں ہے۔ کیا حکومت سے بھی طاقتور کوئی ہے جس کے سامنے انتظامیہ مجبور ہے یقینا ایسا نہیں جس کے بعد ملی بھگت اور بدعنوانی ہی وجہ رہ جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹروں نے جن عناصر کو ملوث قرار دیا ہے ضروری نہیں کہ ان کے الزام میں صداقت ہو لیکن کیا وجہ ہے کہ انہوں نے الزام لگایا۔ صورتحال کی جتنی جلدی وضاحت اور معاملے کی تحقیقات کیساتھ ساتھ اس کی فوری روک تھام ہونی چاہئے۔ اگر ٹرانسپورٹروں کا الزام درست نہیں تو پھر ان کو بھی بے نقاب کیا جائے۔

چھاتی کے سرطان کا مفت علاج کا سندیسہ

چھاتی کے سرطان یعنی بریسٹ کینسر کے بڑھتے واقعات پر کنٹرول کیلئے حکومت کا صوبے کے دواضلاع میں غیرملکی میڈیسن کمپنی کی جانب سے مفت علاج کی پیشکش منظور کرتے ہوئے اس سلسلے میں معاہدہ کرنے کی منصوبہ بندی نادار مریضوں کیلئے علاج اور صحت یاب ہونے کی امید اور آس ہے۔ ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابق یہ منصوبہ آزمائشی بنیادوں پر چترال اور ڈی آئی خان میں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جہاں پر جدید انکالوجی سنٹرز اور کینسر کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیگی۔ہم سمجھتے ہیں کہ سرطان کا نام ہی جان لیوا اور دل لرزا دینے والا اسلئے بھی ہے کہ اولاً اسے تقریبا لاعلاج مرض سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کا علاج اتنا مہنگا ہوتا ہے جو کم آمدنی والے طبقے کے بس کی بات نہیں، خاص طور پر خواتین کو تو سب سے آخر میں علاج کیلئے ڈاکٹر کے پاس لے جایا جاتا ہے۔ چھاتی کے سرطان کی جب تک علامتیں ظاہر ہونا شروع نہ ہوں تب تک مفت چیک اپ کی پیشکش پر بھی غور نہیں کیا جاتا۔ اس حوالے سے مقدور بھر آگاہی کے باوجود بھی صورتحال جوں کی توں رہنا افسوسناک امر ہے۔ چھاتی کے سرطان کے علاج کیلئے اقدامات جتنا جلد ممکن ہو اتنا ہی اچھا ہوگا۔

فیس بک' نئی سگریٹ

امریکا کی ایک سافٹ ویئر کمپنی سیلز فورس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مارک بینیوف کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم فیس بک کو نئی سگریٹ قرار دینا صورتحال کی درست نشاندہی ہے۔ علاوہ ازیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوجوانوں اور بچوں کو بھی اس سگریٹ کی لت لگ رہی ہے۔ فیس بک کا عادی ہونا نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ زیادہ عرصہ سکرین پر نظر جمانے سے بچوں اور نوجوانوں میں آنکھوں کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں جس میں نظر کی کمزوری عام بات ہے۔ فیس بک کے علاوہ ازیں اخلاقی طور پر منفی اثرات بھی اپنی جگہ قابل توجہ امور ہیں۔ کسی بھی چیز کے عادی ہونے اور نشے کی طرح ذہن پر سوار ہونے کی طرح فیس بک پر دن بھر اور رات گئے مصروف ہونے کا نشہ بھی نظرانداز کئے جانے کا باعث امر ہے۔ اس کا اعتدال سے درست استعمال ہی مناسب طریقہ ہے جس کی پابندی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کے اس کے منفی طور پر عادی ہونے سے ہر ممکن طریقے سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔

انڈرپاسز جلد کھولے جائیں

بی آر ٹی کے جنگلے لگانے کے باعث شہر کی دو حصوں میں تقسیم اور راستے نہ ہونے سے سڑک عبور کرنے کی سخت مشکل صرف احتجاج کرنے والے یونیورسٹی روڈ کے مکینوں ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے پشاور کے شہریوں کا اجتماعی مسئلہ بن گیا ہے۔ جہانگیرآباد ہو یا گلبہار لوگ جان خطرے میں ڈال کر سڑک عبور کرنے اور جنگلے پھلا نگنے پر مجبور ہیں۔ بی آر ٹی کی بسوں کے چلنے کا انتظار بھی طویل سے طویل تر ہوتا جارہا ہے۔ یہ عجیب سا دور حکومت ہے جس میں صوبائی دارالحکومت کے شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کی بھی سہولت میسر نہیں اور مہنگائی کے اس دور میں رکشہ ٹیکسی کے کرائے برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ عوام کے احتجاج کے بعد بھی انڈرپاسز مکمل سیکورٹی کے انتظامات کیساتھ نہ کھولے گئے تو بعید نہیں کہ جنگلے ہی اکھاڑ ے جائیں۔ صوبائی حکومت بی آر ٹی جلد نہیں چلا سکتی تو کم ازکم انڈرپاسز ہی کھلوا دے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ انڈرپاسز کھولنے میں مزید تاخیر نہیں کی جائے گی اور عوام کو مزید مشکلات سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا۔

Themes
ICO